حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پاراچنار/ مسجد حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا، مہورہ، پاراچنار میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مجلس علمائے اہلِ بیت پاراچنار کے صدر علامہ زاہد حسین انقلابی نے جمہوریہ آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلم خواتین کے مذہبی حقوق کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے ایامِ فاطمیہ کے احترام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے، دفاعِ ولایت اور نوجوان نسل میں دینی اقدار کے فروغ پر بھی زور دیا۔
آذربائیجان میں حجاب پر پابندی کی مذمت
علامہ زاہد حسین انقلابی نے اپنے خطبے جمعہ میں آذربائیجان میں حجاب سے متعلق پابندی پر سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اکثریتی آبادی والے ملک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کرنا قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے آذربائیجان کے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں۔
علامہ زاہد حسین انقلابی نے کہا کہ آذربائیجان میں کالجوں اور اسکولوں میں حجاب پر پابندی ایک ایسا اقدام ہے جس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ آذربائیجان ایک ایسا ملک ہے جہاں تقریباً 98 فیصد مسلم آبادی ہے، مسلم شناخت رکھنے والے حکمرانوں کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کرنا افسوس ناک ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کے حکمران سیکولر پالیسیوں کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاراچنار کی عوام اس پابندی کو مسترد کرتی ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتی ہیں۔
علامہ انقلابی نے آذربائیجان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانون کو قبول نہ کریں اور اپنے مذہبی شعائر کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی تو مستقبل میں حجاب سے متعلق پابندیاں مزید وسیع ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں شاہِ ایران کے دور کا حوالہ بھی دیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں سے سوال
خطیبِ جمعہ نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزادیِ اظہار کی حامی تنظیموں سے بھی سوال کیا کہ اگر ہر انسان کو اپنے مذہب اور ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے تو مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی کے معاملے پر خاموشی کیوں اختیار کی جا رہی ہے؟
انہوں نے آذربائیجان کے حکمرانوں سے بھی سوال کیا کہ جن طاقتوں کی خوشنودی کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیا ان ممالک میں بھی حجاب پر اسی نوعیت کی پابندیاں عائد ہیں؟ انہوں نے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔
ایامِ فاطمیہ اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
علامہ زاہد حسین انقلابی نے ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، مظلومانہ شہادت اور دفاعِ ولایت کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے امام زمانہ حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کا یہ فرمان نقل فرمایا: «فِي ابْنَةِ رَسُولِ اللّٰهِ لِي أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»
یعنی دخترِ رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذاتِ مبارکہ میرے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی تاریخ کے حوالے سے دو روایت مشہور ہیں ایک روایت کے مطابق شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے 70 دن بعد، 13 جمادی الاول کو ہوئی، جبکہ دوسری روایت کے مطابق یہ مدت 90 دن بعد 3 جمادی الثانی کو ہوئی۔ ان دونوں تاریخ کے درمیان آنے والے ایام کو ایامِ فاطمیہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
علامہ انقلابی نے مومنین سے اپیل کی کہ وہ ان ایام میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حرمت اور عزاداری کا خصوصی اہتمام کریں اور اپنے گھروں میں کم از کم ایک مجلسِ عزا منعقد کرکے ان ایام کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائیں۔
دفاعِ ولایت، سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا کا اہم پیغام
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے خطیبِ جمعہ نے کہا کہ آپ سلام اللہ علیہا نے تنہا ولایتِ حقہ اور حضرت علی علیہ السلام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا۔ سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا کا ایک نمایاں پہلو بصیرت، حق شناسی اور امامِ وقت کی حمایت میں قربانی کا جذبہ ہے۔
علامہ زاہد حسین انقلابی نے کہا کہ مومنین کو ہر دور اور ہر مقام پر دفاعِ ولایت کے لیے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اس راستے میں جان اور اولاد کی قربانی یا دیگر مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے تو ولایت کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی اہلِ ایمان کے لیے استقامت، وفاداری اور حق کے دفاع کا عملی نمونہ ہے، جس سے موجودہ دور میں بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
پاراچنار کے عوام اور نوجوان نسل کے نام پیغام
خطبے کے اختتام پر علامہ زاہد حسین انقلابی نے پاراچنار کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے کے ماحول اور نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے والدین اور اہلِ خانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو حجاب، حیا اور اسلامی اقدار کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ معاشرے میں دینی اقدار کو کمزور کرنے کی کوششوں سے غافل نہیں رہنا چاہیے، بلکہ خاندان اور معاشرے کی سطح پر آگاہی اور تربیت کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ